کامیاب امیدوار

April 4th, 2012 / Categorized under: Uncategorized

حسن اتفاق جب وہ اپنے دیگر آفس کولیگ کے ساتھ انٹرویو میں کامیاب امیدوار کا انتخاب کر رہا تھا جب ہم اُس سے ملاقات کو اُس کے دفتر جا پہنچے! کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ دوبارہ آپس میں “مطلوبہ” امیدوار کے بارے میں مشورے میں مصروف ہو گئے! اُسے اپنے آفس کے لئے ایک آفس سیکریٹری کی ضرورت تھی!

اُن کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ آج ہی اس سیٹ کے لئے اُمیدواروں کے انٹرویو کئے گئے ہیں! تمام پینلسٹ امیدوار کی صلاحیتوں سے متعلق اپنی اپنی رائے دے رہے تھے! وہ اپنی گھومنے والی کرسی پر بیٹھا جھول رہا تھا اور تمام افراد کی رائے کو غور سے سن رہا تھا! آخر میں اُس کے ایک ساتھی نے اُس سے اُس کی رائے معلوم کی تو وہ اپنی کرسی پر سیدھا ہو میز پر رکھے قلم کو ہاتھ میں پکڑ کر انگلیوں میں گھماتے ہوئے حتمی لہجے میں بولا!



ایسا کرو وہ لڑکی نہیں تھی نشیلی آنکھوں اور کھلے بالوں والی، جس نے لال رنگ کی تنگ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی! اور بال ڈائی کئے ہوئے تھے اُس کا آفر لیٹر نکال دوں میرے کام کی تو وہ ہی ہے! بولڈ ہے بندہ بولڈ کر سکتی ہے “ایک موٹی گالی” “

معیار کی جانچ کی ایک مثال یہاں بھی ہے۔

کامیاب امیدوار

April 4th, 2012 / Categorized under: Uncategorized

حسن اتفاق جب وہ اپنے دیگر آفس کولیگ کے ساتھ انٹرویو میں کامیاب امیدوار کا انتخاب کر رہا تھا جب ہم اُس سے ملاقات کو اُس کے دفتر جا پہنچے! کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ دوبارہ آپس میں “مطلوبہ” امیدوار کے بارے میں مشورے میں مصروف ہو گئے! اُسے اپنے آفس کے لئے ایک آفس سیکریٹری کی ضرورت تھی!

اُن کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ آج ہی اس سیٹ کے لئے اُمیدواروں کے انٹرویو کئے گئے ہیں! تمام پینلسٹ امیدوار کی صلاحیتوں سے متعلق اپنی اپنی رائے دے رہے تھے! وہ اپنی گھومنے والی کرسی پر بیٹھا جھول رہا تھا اور تمام افراد کی رائے کو غور سے سن رہا تھا! آخر میں اُس کے ایک ساتھی نے اُس سے اُس کی رائے معلوم کی تو وہ اپنی کرسی پر سیدھا ہو میز پر رکھے قلم کو ہاتھ میں پکڑ کر انگلیوں میں گھماتے ہوئے حتمی لہجے میں بولا!



ایسا کرو وہ لڑکی نہیں تھی نشیلی آنکھوں اور کھلے بالوں والی، جس نے لال رنگ کی تنگ ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی! اور بال ڈائی کئے ہوئے تھے اُس کا آفر لیٹر نکال دوں میرے کام کی تو وہ ہی ہے! بولڈ ہے بندہ بولڈ کر سکتی ہے “ایک موٹی گالی” “

معیار کی جانچ کی ایک مثال یہاں بھی ہے۔

نوشتہ دیوار

March 28th, 2012 / Categorized under: Uncategorized

جب ہم پی ایف کالج میں پڑھتے تھے تو زندگی بہت عمدہ تھی! فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا!! کر تو ہم اب بھی عیش ہی رہے ہیں مگر تب کی بات اور تھی۔

ایک دن کالج آئے تو ایک خاتون کا نام اور فون نمبر کالج کی تمام دیواروں پر لکھا ہوا تھا! شدید حیرت ہوئی! اگلے پورا ماہ اہم موضوع بحث یہ اسٹوڈنٹ ہی رہی تمام کالج میں! وہ اسٹوڈنٹ تو اگلے دن سے کالج نہیں آئی!! جن کے ناموں کو تفتیش کے دائرے میں لایا گیا اُن میں ہمارا نام بھی تھا جب ہی مجرم پکڑنے کی ذمہ داری Vice Principle نے ہمیں دے دی!! ایسے کیسوں کے مجرم پکڑ میں آتے ہیں کیا؟

تب ہم نے جانا ایک کام کا چور ہر کام کا چور مانا جاتا ہے! ہمارا جرم بس اتنا تھا کہ ہم نے کالج کی ایک سابقہ روایت کو دوبارہ زندہ کیا تھا اور وہ تھی کلاس یا کالج سے bunk مارنا!! اس ہی بناء پر کوئی بھی دو نمبر کام ہوتا ہمارا نام مجرمان کی فہرست میں آتا تھا!! وہ تو شکر ہے نہ تو ہمارا کبھی bunk پکڑا گیا نہ کسی اور جرم کی پاداش میں ہم کالج سے نکالے گئے۔

آج فلکر پر ایک تصویر دیکھ پر کالج کا یہ قصہ یاد آ گیا!

نوشتہ دیوار

March 28th, 2012 / Categorized under: Uncategorized

جب ہم پی ایف کالج میں پڑھتے تھے تو زندگی بہت عمدہ تھی! فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا!! کر تو ہم اب بھی عیش ہی رہے ہیں مگر تب کی بات اور تھی۔

ایک دن کالج آئے تو ایک خاتون کا نام اور فون نمبر کالج کی تمام دیواروں پر لکھا ہوا تھا! شدید حیرت ہوئی! اگلے پورا ماہ اہم موضوع بحث یہ اسٹوڈنٹ ہی رہی تمام کالج میں! وہ اسٹوڈنٹ تو اگلے دن سے کالج نہیں آئی!! جن کے ناموں کو تفتیش کے دائرے میں لایا گیا اُن میں ہمارا نام بھی تھا جب ہی مجرم پکڑنے کی ذمہ داری Vice Principle نے ہمیں دے دی!! ایسے کیسوں کے مجرم پکڑ میں آتے ہیں کیا؟

تب ہم نے جانا ایک کام کا چور ہر کام کا چور مانا جاتا ہے! ہمارا جرم بس اتنا تھا کہ ہم نے کالج کی ایک سابقہ روایت کو دوبارہ زندہ کیا تھا اور وہ تھی کلاس یا کالج سے bunk مارنا!! اس ہی بناء پر کوئی بھی دو نمبر کام ہوتا ہمارا نام مجرمان کی فہرست میں آتا تھا!! وہ تو شکر ہے نہ تو ہمارا کبھی bunk پکڑا گیا نہ کسی اور جرم کی پاداش میں ہم کالج سے نکالے گئے۔

آج فلکر پر ایک تصویر دیکھ پر کالج کا یہ قصہ یاد آ گیا!

Facebook blog fan page cover [Flickr]

March 27th, 2012 / Categorized under: Uncategorized

Shoiab Safdar posted a photo:

Facebook blog fan page cover

Shoiab Safdar Urdu Blog Facebook Fan page Cover

Meeting with Chief Justice Sindh [Flickr]

March 26th, 2012 / Categorized under: Uncategorized

Shoiab Safdar posted a photo:

Meeting with Chief Justice Sindh

on 21-04-2012 with Chief Justice of Sindh,

لاؤڈ اسپیکر کا استعمال!

March 25th, 2012 / Categorized under: Uncategorized
ایک دور تھا عالم دین اس رائے پر اختلاف کا شکار تھے کہ آیا لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز ہے یا نہیں اور ابتدا میں تو وہ صرف مسجد میں اس کا استعمال خطیب کے خطبہ تک محدود رکھتے تھے مگر بعد میں جب دوبارہ دنیاوی تعلیم رکھنے والوں نے دین کی طرف رغبت کی اور شرعی علم کے حامل افراد نے بھی ایک بار پھر خواہ محدود تعداد میں ہی دنیا کے علم کو سمجھنے کی سہی کی تو تب لاؤڈ اسپیکر کو مساجد میں دیگر دینی امور جیسے نماز وغیرہ کے لئے استعمال کیا جانا شروع کر دیا گیا!
قریب تمام علماء بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر متعفق ہیں کہ اذان کے علاوہ کسی بھی دیگر استعمال کے لئے مساجد کے باہر لگے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اسلامی شعائر کے مخالف ہے!وجہ لاؤڈ اسپیکر کا غیر اسلامی ہونا نہیں بلکہ عوام الناس کے تکلیف پہنچنے کا امکان ہے۔
علماء کی اس رائے کے برخلاف یہ ہمارے معاشرے کی عام روش ہے کہ مخصوص دینی ایام و تقریبات میں لاؤڈ اسپیکر مساجد و تقریب کی مقام سے باہر بھی استعمال کر کئیے جاتے ہیں جو کہ اہل علاقہ و محلہ کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا یہ غلط استعمال صرف دینی حلقوں کی جانب سے ہی نہیں ہوتا بلکہ سیاسی جماعتوں و خود کو “روشن خیال” کہلانے والے دیگر مختلف طبقے بھی روش پر گامزن نظر آتے ہیں۔
اونچی آواز میں اسپیکرز(کہ اہل محلہ و علاقہ تک آواز جائے) پر گانے سننے یا نعت و نوحہ چلانے و پڑھنے کی یہ غیر اخلاقی حرکت معاشرے میں اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ اب کئی احباب اس بارے میں اس رائے کا شکارہیں کہ شاید یہ کوئی غلط بات نہیں! اور اس سلسلے میں ہر طبقہ دوسرے کو مثال بنا کر پیش کرتا نظر آتا ہے کہ “ارے وہ بھی تو ‘فلاں”فلاں’ موقعہ پر ایسا کرتے ہیں تب تو کوئی کچھ نہیں کہتا”۔
لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے عوام کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو نہ صرف یہ کہ اخلاقی و دینی اعتبار سے قابل گرفت ہے بلکہ ملکی قانون بھی ایسے حالات میں اس عمل کو “جرم” تصور کرتا ہے۔ مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کے تحت یہ ایک جرم ہے! یہ متعلقہ قانون کل آٹھ دفعات پر مشتمل ہے! اس قانون کی دفعہ پانچ کے تحت یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہے!
لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ 2 کے تحت عوامی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جرم تصور کیا جائے گا اگر اُس سے عام افراد کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو! مزید یہ کہ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، عدالتوں، مختلف دفاتر کے قریب کام کے اوقات میں نیز مساجد و دیگر دینی مقامات (چرچ و مندر) کے قریب عبادات کے اوقات میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال منع ہے۔
یہ ہی نہیں قانون کی دفعہ 2 میں مزید بیان ہے کہ مساجد، چرچ ، مندر اور دیگر دینی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے ان کے قریب کے رہائشی متاثر ہو کی بھی ممانعت کی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی عوامی و ذاتی مقام ہر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے فرقہ واریت و نفرت انگیز پھیلنے یا نظم و ضبط متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو بھی یہ عمل قابل گرفت تصور ہو گا۔ تاہم اس دفعہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ اذان دینے، عبادات (قانون میں لفظ prayers استعمال کیا گیا ہے جس سے نمازیں مراد لیا جائے گا) اور جمعہ و عید کے خطبہ کے لئے لاؤڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت ہے۔
اس قانون کی دفعہ 3 کے تحت جو کوئی بھی اس قانون کی قانون کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا اُس کو ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جا سکتے ہیں!
وہ لاؤڈاسپیکر جو اس غیر قانونی عمل میں استعمال کیا گیا ہو گا علاقہ تھانہ کا سب انسپکٹر یہ اس سے اونچے عہدے کا افسر اپنے قبضہ میں لینے کا مجاز ہو گا اور پابند ہو گا کہ جس قدر جلد ممکن ہو اُسے عدالت علاقہ کے روبرو پیش کرے۔
لہٰذا کوئی سیاسی تقریر، مذہبی وعظ، نعت خوانی ، جلسہ اور کسی بھی قسم کا کوئی موسیقی کا کوئی پروگرام اگر لاؤڈ اسپیکر پر اس طرح نشر کیا جائے کہ محلے والوں کی نیندیں خراب ہوں، سوتے بچے ڈر نے لگ جائیں، مریضوں کو اختلاج قلب شروع ہوجائے، یا دن کے وقت اُس کی روزمرہ زندگی متاثر ہو تو یہ عمل قانونی طور پر قابل گرفت ہے اور مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ تین کے تحت متعلقہ بندے کے خلاف رپٹ درج کروائی جا سکتی ہے۔
(یہ تحریر مفاد عام کے تحت لکھی گئی ہے)

کاروباری رقابت

March 24th, 2012 / Categorized under: Uncategorized

کاروباری مسابقت کبھی نا کبھی کاروباری رقابت میں تبدیل ہو جاتی ہے! خاص کر جب دوسرا آپ کے علاقے میں آپ کے کاروبار ی منافع یا حصہ میں سے کچھ نا کچھ سمیٹنا شروع کر دے! رقابت دشمنی میں کب بدل جائے اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں مگر جب رقابت کا آغاز ہوتا ہے دشمنی خود با خود ہی اُمنڈ آتی ہے۔

میرے شہر میں کئی طرح کے لوگ کاروبار کرتے ہیں! کہتے ہیں معاشرہ میں موجود ایک فرد کی مجبوری دوسرے کا روزگار ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ہم ایک مشہور ہسپتال میں ایک دوست کے میڈیکل شک اپ کے لئے گیا تو وہاں ایک دل کا ڈاکٹر دوسرے ساتھی سے یوں کہہ رہا تھا “آج کل کام کافی مندہ ہے نہ معلوم کیا چکر ہے مین تو آج صبح اپنی بیوی سے کہہ کر آیا ہوں کوئی صدقہ وغیرہ نکالو” ہم مسکرا کے رہ گئے!

ہمارے ماموں نے ایک بار اپنا قصہ ایسے ہی واقعہ کے سلسلے میں یوں بیان کیا کہ ایک بندے جو اُن کے ساتھ جاب کرتا تھا نے اُن سے قرضہ لیا ایک بار ماموں سے اُن سے پیسے کی واپسی کو کہا تو ان صاحب نے جواب میں کہا “یار کاروبار نہیں چل رہا دعا کرو کاروبار میں تیزی آءے تو میں آپ کو رقم لوٹا دوں گا” ماموں نےکہا چلو اللہ آپ کے کاروبار میں دن دگنی رات چگنی ترقی دے تب قریب بیٹھے مشترکہ دوست نے کہا معلوم ہے اس کا کاروبار کیا ہے؟ ماموں جو کہ انجان تھے نے انکار میں سر ہلا دیا تب اُس نے آگاہ کیا یہ کفن فروخت کرتا ہے ۔

میرے شہر میں ایک کاروبار بد بھتہ لینے کا ہے ، آج کراچی ایک بار پھر بند ہے وجہ یہ کہ شہر میں ایک بار پھر ایک کاروباری مسابقت جو کہ رقابت سے کب کی دشمنی میں بدل چکی ہے ! اور یوں ماضی کی طرح دوبارہ بھتہ مافیا نے بھتہ خوروں کے خلاف جنگ کا نعرہ لگایا ہے!

ہم ماضی میں بیان کردہ اپنی بات کو دوبارہ آپ سے آج کے دن کی مناسبت سے شیئر کرتا ہوں کہ وہ تب بھی سچ تھی اب بھی درست ہے۔

دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔

کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!

ایک دور تھا کہ شہر کا تاجر اپنے علاقے کے تھانے کو تو monthly دیتا تھا ہی مگر ایک آدھ مثال میں علاقائی بدمعاش کو اس لئے بھی چندہ کے نام پر کچھ نہ کچھ تھما دیتا تھا کہ وہ دیگر بدمعاشوں سے اُسے تحفظ دے گا! تاجر یہ بدمعاشی بھی اپنے کاروبار کی بقاء کے لئے خوف کے زیر اثر دیتا تھا! اور یہ بھتہ اُسے یوں ایک چوکیدار مہیا کر دیتا!

مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!

اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!

آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!

اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!

ارتقاء میرٹ

March 16th, 2012 / Categorized under: Uncategorized
معیار بدلتا جا رہا ہے! ایک دور تھا ملک میں میرٹ کی تعریف کچھ تھی اور اب کچھ ہے! پہلے انتخاب یوں ہوتا کہ مقابلہ کم تھا لہذا آپ مطلوبہ معیار کی حد کو نہیں بھی آتے تھے تو بھی انتخاب میں آ جاتے تھے! نوکری دینے والا پوچھتا میاں تم قابل معلوم ہوتے ہو کیا فلاں ڈگری ہے؟ ادھر آپ نے ہاں کہا اُدھر وہ آپ کو نوکری کی آفر کر دیتا آپ انکاری ہوتے تو اُس کے پاس آپ کو اُس نوکری کے فوائد بتانے کے لئے بے شمار دلیلیں ہوتے پھر معیار بدلہ اور ڈگری والے کو سفارش کی ضرورت پڑنے لگی تب ڈگری و سفارش میرٹ بن گیا! وقت کے گزرنے کے ساتھ زر کی اہمیت معاشرتی زندگی میں نظر آنے لگی تو نوکری کے خواہش مندوں نے سفارش کا توڑ رشوت سے کیا یوں لوگ جاننے لگے کہ کس سیٹ کی کیا قیمت ہے یوں ڈگری ، سفارش اور رشوت کبھی انفرادی طور پر اور کہیں اجتماعی طور پر معیار ٹھہرے اور قابلیت کہیں پیچھے رہ گئی! اب معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ یار دوست ایک ہاتھ میں ڈگری لے کر کسی سفارشی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جا کر التجاء کی جاتی ہے کہ “ہمارا بندہ قابلیت کے اعلی معیار پر ہے کسی سے سفارش کر دیں کہ رشوت لے کر اُسے یہ نوکری دلوا دے امیدوار نے مطلوبہ ڈگری کے حصول میں امتحانات میں “یہ” پوزیشن لی “ضلع/شہر” میں، نوکری کے لئے دیئے گئے تحریری امتحان میں بھی اچھے مارکس لے لے گا”

ارتقاء میرٹ

March 16th, 2012 / Categorized under: Uncategorized
معیار بدلتا جا رہا ہے! ایک دور تھا ملک میں میرٹ کی تعریف کچھ تھی اور اب کچھ ہے! پہلے انتخاب یوں ہوتا کہ مقابلہ کم تھا لہذا آپ مطلوبہ معیار کی حد کو نہیں بھی آتے تھے تو بھی انتخاب میں آ جاتے تھے! نوکری دینے والا پوچھتا میاں تم قابل معلوم ہوتے ہو کیا فلاں ڈگری ہے؟ ادھر آپ نے ہاں کہا اُدھر وہ آپ کو نوکری کی آفر کر دیتا آپ انکاری ہوتے تو اُس کے پاس آپ کو اُس نوکری کے فوائد بتانے کے لئے بے شمار دلیلیں ہوتے پھر معیار بدلہ اور ڈگری والے کو سفارش کی ضرورت پڑنے لگی تب ڈگری و سفارش میرٹ بن گیا! وقت کے گزرنے کے ساتھ زر کی اہمیت معاشرتی زندگی میں نظر آنے لگی تو نوکری کے خواہش مندوں نے سفارش کا توڑ رشوت سے کیا یوں لوگ جاننے لگے کہ کس سیٹ کی کیا قیمت ہے یوں ڈگری ، سفارش اور رشوت کبھی انفرادی طور پر اور کہیں اجتماعی طور پر معیار ٹھہرے اور قابلیت کہیں پیچھے رہ گئی! اب معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ یار دوست ایک ہاتھ میں ڈگری لے کر کسی سفارشی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جا کر التجاء کی جاتی ہے کہ “ہمارا بندہ قابلیت کے اعلی معیار پر ہے کسی سے سفارش کر دیں کہ رشوت لے کر اُسے یہ نوکری دلوا دے امیدوار نے مطلوبہ ڈگری کے حصول میں امتحانات میں “یہ” پوزیشن لی “ضلع/شہر” میں، نوکری کے لئے دیئے گئے تحریری امتحان میں بھی اچھے مارکس لے لے گا”

RSSSubscribe to the feed now.

About PakBlogging.com

PakBlogging.com is a free spirited attempt to build a network of different types of Pakistan - focused blogs. See the Categories below for what we have managed to do so far.
Submit you Pakistani Blog