دل جیت لیا جس نے!!۔




آرڈینس کی دفعہ 4 کے تحت روزے کے وقت کے دوران کسی ریسٹورنٹ، کینٹین یا ہوٹل کے مالک، نوکر، منیجر یا کسی اور پبلک پلیس پر کسی فرد کو جانتے بوجھتے رمضان میں کھانے کی سہولت دینا یا دینے کی آفر کرنا منع ہے جبکہ اُس فرد پر روزہ لازم ہو اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ تین ماہ کی قید، یا پانچ سو روپے جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا حقدار ہو گا۔دفعہ 9 کے تحت بنائے گئے قواعد کی رو سےاسپتال کی کینٹن سے وہ افراد کھانا لے کر کھا سکتے ہیں جو خود مریض ہوں اور ہوئی اڈہ، ریلوے اسٹیشن ، بحری اڈہ اور بس اسٹنڈ پر سے وہ افراد کھانا کھا سکتے ہیں جن کے پاس ٹکٹ یا ایسا واؤچر ہو جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ وہ فرد یا افراد 75 کلومیٹر سے ذیادہ کا سفر کر رہے ہیں بمعہ اُس سفر کے جو وہ طے کر کے آچکے ہیں نیز پرائمری اسکول میں موجود کینٹن سے صرف وہ طالب علم کھانا لے کر کھا سکتے ہیں جو ابھی بالغ نہیں ہوئے!!!
سمجھ آئی کہ شہر میں ہوٹل، کینٹین اور ریسٹورینٹ کیوں بند ہیں!! اور بیکری والے کیسے بچ جاتے ہیں پابندی سے!!
جی جناب یہ ہے احترام رمضان آرڈینس!!! آسان الفاظ میں۔ سوچ رہا ہوں اپنے بلاگ میں مختلف قوانین کو آسان زبان میں لکھ دوں کیا رائے ہے!! اور نئے آنے والے قوانین خاص کر! اور وہ جو نافذ ہیں مگر لوگوں کے علم میں نہیں، اس لئے اُن کے بارے میں آگاہی بھی نہیں۔

کی حالت یہ تھی کہ چہرہ لہولہان تھا! سیدھے ہاتھ پر بھی چوٹ لگی ہوئی تھی جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس ہاتھ میں پسٹل تھی جسے جھڑوانے کے لئے ہاتھ پر بلاک مارا گیا جس سے زخم آیا ہے، پولیس کو فون کیا گیا مگر جب تک پولیس نہیں آئی ہم نے دیکھا کہ جمع ہجوم کی اسی فیصد نے اُسے ضرور تھپڑ رسید کیا! چند ایک نے ٹھوکریں بھی ماری،چند ایک نے پتھر بھی مارے،ہر آنے والا قصہ معلوم کر کے دو چار گالیاں نکال کر اُسے مارنے کا فتوی جاری کرتا اور تھپڑ یا گونسہ کی شکل میں اپنا حصہ ڈالتا! کسی بھی ملزم کے ساتھ اہل محلہ کا یہ سلوک میرے لئے پہلا تجربہ تھا۔ بعد میں پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی تو اہل محلہ کے اس تشدد سے اُسے نجات ملی۔ بعد میں اہل محلہ کی طرف کیس کی پیروی بطور وکیل ہم نے عدالت میں کی اور اُسے ڈھائی سال کی سزا ہوئی مگر سزا پا کر بھی وہ ہمارا ہی شکر گزار تھا کہ اُس رات ہم نے اُس کی جان بچائی پولیس کو بلوا کر۔
کے قتل ہونے، دو چار دن شہر بند ہونے اور بدلہ لینے کا بیانات کو فطری ردعمل جاننے لگ پڑے ہیں!نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسے غلط جان کر بھی لاشعوری طور پر اسے اپنا چکا ہے۔ معمولی یا غیر معمولی دونوں صورتوں میں! 
سعودی عرب گیا! پھر تب تب جب کوئی یار دوست یا رشتہ دار باہر سے آیا!!
اپنے ہم نسل کو دوران تفتیش کئی معاملات میں آسانیاں فراہم کرتی ہے جس میں معمولی جرم کی صورت میں گرفتار نہ کرنا یا تفتیش میں سست روی دیکھانا وغیرہ۔ مگر ہمیں اُن میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ ایسا نئی نسل ہی میں نہیں بلکہ بزرگوں میں بھی نظر آتا ہے۔ جیسے کہ ایک بار کا قصہ یوں کہ اہم ایک بزرگ وکیل کے پاس بیٹھے تھے (کہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کو مل جاتی ہیں)، اُن کے ایک ہم عمر دوست و کلائینٹ آ گئے پہلے پہل تو اپنے بیٹوں کہ پاکستان سے پردیس ہجرت کر جانے کے عمل کو سراہنے لگے پھر ملک کے حالات کا رونا رویا یہاں تک ٹھیک تھا! اچانک کہنے لگے یہ ملک ان حکمرانوں سے نہیں چل سکتا انگریز ہی ٹھیک تھا!میں تو کہتا ہوں اب بھی اُن کو بلا کر حوالے کرو دیکھو کیسے ٹھیک ہو جائے گا! اس بات پر اُس سے جو بحث ہوئی وہ ایک خاص نقطہ پر جا کر بلا شبہ بدتمیزی کے ذمرے تک پہنچ گئی مگر نہ معلوم مجھے اُس پر افسوس نہیں ہے، اور مجھے لگتا ایسے افراد مجھ سے خواہ وہ چھوٹے ہو یا بڑے! عالم ہوں یا جاہل! میں بدتمیزی، خاص کر جو میرے ملک اور یہاں کے لوگوں کو بُرا سمجھیں با حیثیت قوم، ہونا اُن کا حق ہے!

بات کہاں سے کہاں نکل گئی میں یہ کہہ رہا تھا کہ خود میں برائی کا احساس ہونا بُرا نہیں مگر اس کی یوں تشہیر اچھی نہیں! 2005 کے زلزلے میں یقین حکمران جماعتوں اور مختلف این جی اوز نے امداد کے سامان میں خُردبرد کیا مگر اس قدر نہیں کتنی آپسی دشمنی کی بناء پر تشہیر کی گئی اور یہاں سے خبریں بنا بنا کر عالمی میڈیا کے ذریعے بدنامی کمائی گئی تھی اب یہ حال ہے وہ بدنامی عالمی سطح پر بے اعتباری کی شکل میں مدد میں رکاوٹ کا روپ لیئے ہوئے ہے غیروں میں ہی نہیں اپنوں میں بھی اور وہی سیاست اب بھی جاری ہے!! سیلابی پروپیگنڈہ کے روپ میں کیا ایسے معاملات میں اپنوں کو گالی دے کر اپنا نام کمایا جا سکتا ہے؟جبکہ محسوس ہو کہ یہ گالی حقیقت کے بیان کے بجائے اندرونی نفرت کے زیراثر جھوٹ کا فروغ ہے! اور اس جھوٹ کے فروغ میں شعوری و لاشعوری طور پر شریک احباب بھی برابر کے شریک ہیں! پچھلے دنوں کراچی کے حالات خراب ہوئے تب بھی اور اب جب ملک میں سیلابی آفت نازل ہےتو بھی آپسی نفرت کے زیر اثر موبائل پر ایس ایم ایس کی شکل میں اور انٹرنیٹ پر ای میل و دیگر انداز میں خود اپنوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی تشہیر کی جا رہی ہے، نہایت افسوس تب ہوتا ہے جب اہل عقل بھی اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں! اب یہاں دینی حوالہ دوں گا تو کئی احباب کو خود کو مومن کی فہرست سے باہر کرنے پرتکلیف ہو گی!۔

میں سمجھ رہا تھا یہ احساس ہم میں نہیں رہا کہ اپنوں کی مدد کرنی ہے مگر جب اردگرد نظر ڈالی، یاروں دوستوں سے بات کی تو دل میں ایک نامعلوم سا احساس جاگا کہ جو سمجھ رہا ہوں ویسا نہیں ہے بس دیکھایا جا رہا ہے کہ ہم میں احساس نہیں ہے! بتایا جا رہا ہے کہ ہم سنگ دل ہو چکے ہیں!امداد سے متعلق چند تحریریں بلاگستان سے!!
سیلاب زدگان کی مدد کیجیے
آپ کی مدد کے منتظر
آؤمتاثرین کی امدادکریں
یہ صحفہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے!

“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ خط اللہ کے بندے عمر بن خطاب کی طرف سے نیل مصر کے نام ہے۔ اگر تو اپنے اختیار سے جاری ہے تو ہمیں تجھ سے کوئی کام نہیں اور اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو اب اللہ کے نام پر جاری رہنا”
کیا آپ کو یاد ہے یہ کس خط کا مضمون ہیں! تاریخ دانوں کے بتائے ہوئے قصہ کے مطابق خلیفہ حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام اُس میں آنے والی ممکنہ خُشک
سالی کا معلوم ہونے پر ایک نوجوان حسینہ کو اُس کی بھیٹ چڑنے سے بچانے کے لئے لکھا تھا اور تب ہی سے دریا نیل میں خُشکی نہیں آئی! اللہ اور اُس کے رسول پر کامل یقین تھا تو حکم چلانے کا حوصلہ بھی اور جانتے تھے یہ اختیار حاصل ہے۔
مگر اپنے سندھ کے وزیراعلی صاحب فرماتے ہیں “پانی تو بادشاہ ہے مقابلہ تو نہیں کرسکتے حدود میں رکھنے کی کو شش کریں” اندازہ لگائے! آج کے اس دور میں بھی جو پانی کو بادشاہ کہئے وہ اُس سے کیا بچاؤ کروائے گے!!
اگر حکمرانوں کی یہ سوچ ہو تو عوام کی حفاظت ممکن ہو گی؟ جبکہ اُن کی اپنی تاریخ اُنہیں ایک الگ سبق سکھا رہی ہو۔

ہم میں احساس و جذبہ دونوں ختم ہو گئے ہیں! یا کم ہو گئے ہیں ہم ہم نہیں رہے بلکہ میں ہو گئے ہیں یا ہوتے جا رہے ہیں۔دیکھا جائے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ جشن آزادی کا جوش و رمضان کا مہینہ دونوں مل کر ہم میں ایک نئی رو پھونک دیتے مگر ہم تو کسی خاص بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں، ملک کی دو کروڑ کی آبادی جو قریب کل آبادی کا گیارہ فیصد بنتا ہے بے حال و بے گھر ہو چکا، مگر وہ جو خود کو اس بپھرے پانی سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اپنے حال میں مست ہیں!
قوموں کی تاریخ میں دو موقع ہی تو اہم ہوتے ہیں ایک اُن کے قومی دن دوسرے اُس کے مذہبی تہوار!! ہم تاریخ کے اُس دوراہے پر ہیں جب ہم پر اپنی قومی زندگی کی ایک بڑی مصیبت نازل ہو چکی ہے، اور ہمارے قومی دن و مذہبی تہوار دونوں ہم میں ایک قوم کا جذبہ پیدا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔