بڑے بزرگ کہتے ہیں انسانوں میں ہونا ایک بات اور انسان ہونا دوسری بات ہے۔آبادی میں میں درندے بھی ہوتے ہیں اور فرشتے بھی! انسان سب سے کم ہوتے ہیں! مگر شکلیں سب کی ایک جیسی! اس انسان نما مخلوق میں ایک گرہ ایسا بھی ہے جو عمر میں مختلف مراحل میں ان تینوں درجات سے گزرتا ہے۔ جس کی کوئی ممکنہ ترتیب نہیں ہے۔ بہروپئے بھی پائے جاتے ہیں جو انسان یا فرشتے کا روپ اپنا کر اپنی درندگی کی تسکین کرتے ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جیت حق و سچ کی ہوتی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کئی بار باطل کی حکمرانی کئی تہذییوں و نسلوں کو برداشت کرنی پڑتی ہے اور جب تک حق سچ کا پلڑا بھاری ہوتا ہے آبادی میں موجود بہروپئے ایک مخصوص تعداد کو گمراہ کر کے یہ باور کروا چکے ہوتے ہیں کہ دراصل باطل ہی حق ہے۔
یہ ہی تباہی کا نقطہ عروج کہ ایک گروہ گمراہی کی اُس نہج پر ہو کہ خود کو درست جان کر باطل کی کامیابی کے لئے ایک مخلص جدوجہد کرے۔
read more
کئی تجربے بہت عجیب ہوتے ہیں اتنے کہ بیان سے باہر، کچھ عرصہ پہلے تک ہم یہ ہی سمجھتے تھے کہ کسی آدمی کی تعریف اُس کی شرافت و نیک سیرت شخصیت ہی کے بناء پے کی جاتی ہے اس کے باوجود کہ ہم نے یہ معقولہ ایک مخصوص کلاس کی نمائندے سے سن رکھا تھا کہ “یاری یا تو کلاس (طبقے) کی ہوتی ہے یا گلاس (شراب کے جام )کی باقی سب تو مجبوریاں ہوتی ہیں”۔
گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی محفل میں جہاں “لبرل کلاس” کے نمائندے موجود تھے اور ہم بھی اپنی تمام تر منافقت کو سمیٹے بیٹھے تھے تو حاضرین محفل اپنے طور پر مختلف ممکنہ امیدواروں میں سے ایک کام کے بندے کے چناؤ میں مصروف تھے۔ تب اہل محفل نے ایک نے موزوں فرد کی خوبیاں کچھ ان الفاظ میں بیان کی:-
“میرا ووٹ تو ‘فلاں’ کے حق میں ہے آزاد منش ہے، باہر سے تعلیم لے کر آیا ہے، کھاتی پیتی فیملی کا ہے، دقیانوس خیالات سے پاک ہے، کلب جاتا ہے، Saturday Night کی محفلوں میں بھی ریگولر ہے، لوکل برانڈ کی وسکی کو ہاتھ نہیں لگاتا اپنے “فلاں نمبر 2” کی طرح نہیں کہ دیسی برانڈی پر دوستوں کو ٹرخا دے، اُس کی محفل میں شباب کا بھی بھرپور انتظام ہوتا ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس کے خاندان میں کوئی بھی مولوی ٹائپ کا بندہ نہیں کہ ڈر ہو وہ بھی پٹری سے اُتر کر مولوی ہو جائے”
read more
Shoiab Safdar posted a photo:

موٹر سائیکل کی سواری کی ملی پہلی چوٹ
read more
Shoiab Safdar posted a photo:

Car in prison
read more
کم بخت جتنے فائنل انٹرویو ہم نے نوکری کے لئے دیئے سب میں فیل ہوئے!! اول اول ہم فوجیوں کے ہاتھ لگے ہوا یوں کہ پی ایف کالج میں پاکستان فضائیہ والوں کی ٹیم آئی انہوں نے فضائی فوج سے متعلق ایک معلوماتی لیکچر دیا پھر طالب علموں کو پاک فورس کی طرف راغب کرنے کو پریزینٹیشن دی اور بعد میں چند ایک کا ٹیسٹ لیا! نتیجہ چند ایک طالب علموں کو بتایا آپ بارہ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد کس پوسٹ کے لئے قسمت آزمائی کرنا!! ہمیں کہا کہ Aeronautical engineer کے لئے جانا!! ہم گئے ISSB کے بعد ہمیں منہ ہی نہیں لگایا!! وجہ ذومعنی سوچ!!!
پھر جب کریجویشن میں تھے پی آئی اے میں flight steward کے لئے اپلائی کیا تو فائنل انٹرویو میں دیسی لہجے میں ولایتی زبان بولنے اور رنگ سانولا ہونے کی وجہ سے انہوں نے بھی چونی اٹھوا دی!!!
جب ہم قانون کے طالب علم تھے تو پولیس میں ASI کی نوکری کے لئے اپلائی کیا!! وہاں بھی فائنل انٹرویو میں کامیابی نہ مل سکی!!
آج کل سرکاری وکیل کے لئے انٹرویو دیا ہوا ہے امید ہے سابقہ ریکارڈ نہیں توڑ پاؤں گا!! اس کے علاوہ ایک اور بار جج کے لئے اپلائی کیا تھا مگر تحریری امتحان میں ہی فیل ہو گیا!!! اب تک یہ پانچ جگہیں ہی ایسی ہے جہاں ہم نوکر ہونے گئے مگر ناکام رہے اوریوں تین میں انٹرویو میں اور ایک بار تحریری امتحان میں نامراد لوئے!!! ایک کا ابھی انتظار ہے!!! اس کے علاوہ ہم نے جب بھی انٹرویو دیا کامیاب ہوئے!!دو تین مرتبہ انٹرویو میں کامیاب ہونے کے باوجود اس لئے نوکری جو تنخواہ وہ دے رہے تھے وہ کم تھی یا جانے والوں کی طرف سے ہمیں یہ باور کروایا کہ اس انٹرویوں میں کامیابی اُن کے مرہون منت ہوئی ہے۔
میز کے اُس طرف انٹرویو دینے کے ایسے تجربے سے ہم اب تک گھبراتے ہیں!!! مگر گزشتہ دنوں ہم میز کی دوسری طرف جا بیٹھے یعنی انٹرویو لینے والوں میں!!! وہ بھی صنف نازک یعنی خواتین کا!! جو ایک الگ کی تجربہ تھا!!!تین ناکام انٹرویوز میں فیل ہونے کے بعد انٹرویو کرنے کا تجربہ درحقیقت نہایت انوکھا تھا!! انٹرویو والے پینل میں شامل دیگر دونوں احباب ہمارے استاد تھا!!ایک سابقہ وفاقی وزیر قانون پروفیسر شاہدہ جمیل اور دوسرے سابقہ جنرل سکرٹیری کراچی بار ایسوسی ایشن و موجودہ ممبر سندھ بار کونسل محترم ندیم قریشی (میں نے اپنی وکالت کا آغاز ان ہی کے چیمبر سے کیا تھا) اُن کے ساتھ یوں بیٹھنا جہاں ایک اعزاز تھا وہاں اُن کے تجربوں سے مجھے اپنی کی گئی تمام غلطیوں کا ادراک بھی ہوا!
باقی لوگوں کو پرکھنا جتنا آسان لگتا ہے اُتنا ہے نہیں امتحان لینے والا انتخاب کے وقت خود ایک امتحان میں ہوتا ہے، بہت مشکل ہے یہ امتحان جب ایسے افراد بھی آپ کو پرکھنے ہو جو کہ آپ کے جاننے والوں میں شامل ہوں! تعلق بد دیانتی و نا انصافی کی طرف مائل کرتی ہے تب دراصل دوسروں کو پرکھنے کے بجائے منصف خود کو پرکھنے لگتا ہے !!! یہ بات تجربے سے معلوم ہوئے!! اور اپنی نظروں میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ انصاف ہو۔
read more
Shoiab Safdar posted a photo:

سکھر جاتے ہوئے راستے میں یہ تصویر لی
read more