شہر میں افواہ چل رہی ہو تو تمام نہ سہی یار لوگ کہتے ہین کچھ تو سچ ہوتا ہے ہے۔ اب کیا کریں کہ ایک خبر کے ساتھ ہی وکلاء برادری میں بھی افواہ چل پڑی ہے! خبر کیا ہے؟
خبر یہ ہے کہ جناب سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محترم طفیل ایچ ابراہیم صاحب نے استعفی دے دیا ہے! خبر میں “حقیقی” و “آفاقی” حوالہ تو ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ محترم کے پاس “اہلیان کراچی” اور “کراچی لورز” نامی دیواری چاکنک کے اصل ماں باپ کے مخالف کے کیس کی نہ صرف تنسیخ کی درخواست دائر ہے بلکہ ضمانت بھی مانگی گئی ہے۔ “آفاق” میاں گزشتہ آٹھ دس سال سے جیل میں ہیں باقی کیسوں مین ضمانت مل چکی مگر اب ایک ہی کیس رہ گیا ہے! اب جبکہ 21 اپریل کے گزٹ میں یہ قانونی ترمیم متعارف ہو چکی کہ اگر قتل کے کیس کے مجرم کا مقدمہ دو سال مین ختم نہیں ہوتا تو اُسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔
اب افواء عام ہے کہ محترم جسٹس صاحب کی ذاتی وجوہات دراصل “خطرہ جان ہے” کیونکہ ضمانت تو بنتی ہے مگر جو “بیان” پر مشتعل ہوتے ہیں، شہر میں مئی کے مہینے میں “عوامی طاقت” کا مظاہرہ کرتے ہیں! اُن کا پریشر جسٹس صاحب برداشت نہ کر سکے!
سچ کیا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم تو بس افواہ کی بات کر رہے ہیں۔
اپ ڈیٹ؛ لیں جناب ایک اور جج نے کیس کی سماعت سے انکار کر دیا۔ یہ ہے مافیا کی طاقت خاص کر جب وہ سیاست میں بھی ہو اور اقتدار کا حصہ بھی۔ مگر لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔
read more
ہم نے آپ سے ایک گانا شیئر کیا تھا بجلی کا لاہور استیج ڈرامے کی شوٹنگ پر ایک ٹی وی اینکر نے اپنے مارننگ پروگرام کے لئے سنا اپنے موبائل میں ریکارڈ کیا اور دنیا سے شیئر کی خام مال کی شکل میں بجلی پر یہ گانا اب مکمل موسیقی کے ساتھ بھی وہ ہی مزا دے رہا ہے!۔
read more
ہم نے آپ سے ایک گانا شیئر کیا تھا بجلی کا لاہور استیج ڈرامے کی شوٹنگ پر ایک ٹی وی اینکر نے اپنے مارننگ پروگرام کے لئے سنا اپنے موبائل میں ریکارڈ کیا اور دنیا سے شیئر کی خام مال کی شکل میں بجلی پر یہ گانا اب مکمل موسیقی کے ساتھ بھی وہ ہی مزا دے رہا ہے!۔
read more
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
وہ باپ جو سر کا سایہ تھا
جو تم سب کا سرمایہ تھا
قربان ہوا زرداروں پر
عصبیت کے دلالوں پر
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
جو باپ سراپا شفقت تھا
جو الفت کا ایک پیکر تھا
اب لوٹ کے گھر نہ آئے گا
بس تم سب کو تڑپائے گا
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ہاں تیری یہ آہ و فغاں
چلی ہے سوئے آسماں
سارے شہر کے بام و در
انسانیت پہ نوحہ خواں
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
یہ سسکیاں، یہ ہچکیاں
کیسے سنیں صاحب صدر
سب ساتھ ہیں قاتل انہی کے
کیسے ہو انصاف ادھر؟
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ذرداری، الطاف و اسفندیار ہیں
خون ناحق پہ سبھی تیار ہیں
ان سے ناطہ توڑ لو، لوگو سنو
ورنہ یونہی خوف و دہشت میں جیو
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
وقاراعظم (اردو بلاگر و شاعر)۔
read more
ابے بڑا خوش ہیں خیر ہے ناں؟
“ابے خوش کیوں نہ ہوں، آج اسپیشل اولیمپکس میں شمولیت و شاندار کارکردگی کے بعد اپنے ملک لوٹ آئے ہیں! کل 57 میڈل پاکستانی کھلاڑیوں نے جیتے ہیں“
ابے ہاں کارکردگی واقعی عمدہ تھی۔
“ہاں! اور اولیمپکس کا سب سے تیز ترین ایتھلیٹ بھی ایک پاکستانی ہے!! کیا پیارا سا نام تھا اُس کا۔۔۔۔۔۔ذہن مین نہیں آ رہا”
شایدعدیل امیر!!
“ہاں ہاں یہ ہی نام تھا!! کُل تین سونے کے میڈل تو اس اکیلے نے ہی جیتے ہیں”
واقعی یار دلی خوشی ہوئی اپنے ان ذہنی معذوروں کی اس اعلی پرفارمنس پر
“محترم ذہنی معذور نہیں اسپیشل!! اور اس عمدہ کارکردگی دیکھانے والے تو نہایت اسپیشل سمجھے!”
او کے بابا اوکے
“ذہنی معذور تو وہ ہیں جنہیں تم اسپیشل کہتے ہوں اور وہ ملک کے لئے کھیلنے کو ذہنی اذیت سمجھتے ہیں!!! سمجھے؟”
read more
لو جی آفریدی پی سی بی سے پھڈے کے بعد پی سی بی کے لئے نئے خون کی تلاش میں نکل پڑے مگر پیپسی کے تعاون سے! یہ پیپسی کا کمال ہے یا پھر کیا کہ پھڈے کے بعد یوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرکٹ اسٹار پروگرام کی تشہری پروگرام کا حصہ بنے اس پراگرام کے تحت دراصل سولہ سال کی بالی عمر کے نوجوان کرکٹرز کی تربیت و اُن میں عمدہ کھلاڑیوں کی تلاش کے لئے شہر شہر کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ اس کی تشہیری پروگرام کے لئے آفریدی کے انتخاب کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس کچی عمر میں ہی ممکنہ مستقبل کے کھلاڑیون کو یہ باور کروانا ہو کہ تم یہ جان لو کہ ہم اسٹار کو کیسے کھڈے لائین لگا دیتے ہیں! چھڈو جی اشتہار دیکھو!! اور بتاؤ کس کی طرح کیچ نہین چھوڑنا اور کسی کو دوسرا چانس مل سکتا ہے؟
read more
امریکی اسٹیٹ ڈپاٹمنٹ کی ویب سائیڈ پر اگر “سفارت کار ہو حاصل استہقاق” والی دستاویز کے صفحہ 164 پر درج ہے
In order to understand that some control must be retained, one need only recall the sense of outrage expressed by U.S. Citizens whenever diplomatic immunity thwarts prosecution of a serious crime by a diplomat assigned to the United States. For this reason, the principle developed that all persons enjoying privileges and immunities also have the obligation and duty to respect the laws and regulations of the receiving state. This principle is expressly stated in both the VCDR and the VCCR
یعنی کہ امریکی حکومت کے بیان کردہ اصولوں میں یہ بات تو تسلیم کی گئی ہے کہ ‘استہقاق کے حامل افراد کی یہ ذمہ داری و فرض ہے کہ وہ متعلقہ ریاست کے اصول و ضوابط اور قوانین کا احترام کریں‘
اردو محفل کی اس پوسٹ سے معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے میں پاکستان میں ہم جنس پرستوں کے جشن کی تقریب منعقد کی، پاکستان میں امریکی تعاون سے منعقد ہونے والی یہ پہلی ہم جنس پرستوں کی محفل تھی۔ یہ تقریب گزشتہ ماہ 26 جون کو منعقد کی گئی۔
یعنی گزشتہ ماہ کے آخری عشرے میں کم و بیش اس طرح کی دو تقریبات ہوئی اور ایک کو مقامی اخبارات میں من چاہی کوریج ملی! انگریزی و اردو دونوں اخبارات میں۔ پہلی تقریب جو نتھیا گلی مین ہوئی اُس کو بی بی سی نے کوریج دی۔
ہم جنس پرستی اور جنسی بے راروی ہمارے معاشرے میں درست طور پر غلط سمجھے جاتے ہیں اور ہمارا مذہب ان واہیاتیوں کی اجازت بھی نہیں دیتا اور اس ہی لئے ہمارے ملک میں موجود قوانین کے تحت یہ قابل گرفت عمل ہے۔ بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہر فورم پر پاکستان نے ایسے کسی بھی عمل و قانون کی حمایت سے انکار کیا جس سے ہم جنس پرستی کی حمایت کرنا مقصود ہو۔ اس کی تازہ ترین مثال بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے فورم پر امریکہ کی جانب سے ہم جنس پرستی کی حمایت میں پیش کردہ قرارداد کے موقع پر پاکستان کے نمائندہ ضمیر اکرام نے صاف طور پر کہا تھا یہ “ہم جنس پرستی کسی طور پر بنیادی انسانی حق نہیں ہے” اس کے باوجود امریکی سفارت خانے کا یہ عمل کہ پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی تقریب منعقد کرنا اور امریکی سفارت کار رچرڈ ہوگلینڈ کی طرف مکمل حمایت کا یقین دلانہ ایک غیر مہذب عمل اور اپنے کی بیان کردی سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ پریس ریلیز کا متعلقہ حصہ
Addressing the Pakistani LGBT activists, the Chargé, while acknowledging that the struggle for GLBT rights in Pakistan is still beginning, said “I want to be clear: the U.S. Embassy is here to support you and stand by your side every step of the way.
جہان ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت اور اُس کا سفارت خانہ اپنی اعمال پر خود توجہ دے اور پاکستانی عوام کے جذبات اور قوانین کا احترام کرے وہاں حکومت وقت سے بھی یہ امید رکھتے ہیں تعاون و تعلقات کو غلامی کی حدود سے باہر رکھے اور ایسے معاملات میں سخت موقف اختیار کرے۔ مگر لگتا یہ ہے کہ دونوں کام نہیں ہونے۔
read more