پہلا سلام۔۔۔

August 11th, 2009 / Categorized under: Uncategorized

دیہاڑی دار

July 27th, 2009 / Categorized under: Uncategorized
اِک دیہاڑے انکّھاں والا اک مزدور
سڑک کنارے
وانگ کبُوتر اکھّاں مِیٹی
تِیلے دے نال ماں دھرتی دا سینہ پھولے
خورے کنک دادا نہ لبھّے
رمبّا کہئی تے چِھینی ہتھوڑا
گینتی اپنے اَگے دھر کے
چوری اکھّیں ویکھ کے اپنے آل دوالے
کر کے مُوہنہ اسماناں ولّے
ہولی ہولی بھیڑے بھیڑے اَکھّر بولے
اُچّی اُچّی
اُچیا ربّا، سچیا ربّا، چنگیا ربّا
تو نہیوں ڈبیاں تارن والا
ساری دنیا پالن والا
جتّھوں کل اُدھار اے کھاہدا
اُوتھے وی اے اج دا وعدہ
میری اج دیہاڑی ٹُٹّی
میرے دل چُوں تیری چُھٹّی
اُچیا ربّا سچیا ربّا چنگیا ربّا
پنجاں کلیاں مگروں جہیڑا
میرے ویہڑے کھِڑیا پُھل
باہحھ دوائیوں
پُونی ورگا ہوندا جاوے
میرے مستوبل کا دیوا
ویکھیں کِدھرے بُجھ نہ جاوے
اُچیا ربّا سچیا ربّا چنگیا ربّا
اَج نئیں جانا خالی ہتھ
ویچاں بھانویں اپنی رت
شاعر: بابا نجمی

جو بچا تھا لٹانےکے لئے آئے ہیں

July 17th, 2009 / Categorized under: Uncategorized

ہم بھول گئے ہر بات

July 14th, 2009 / Categorized under: Uncategorized

 

 

کیا یہ بھی کوئی انقلاب ہے؟؟

July 11th, 2009 / Categorized under: Uncategorized

میں نے کافی پہلے یہ لطیفہ سنا تو اسے اپنے بلاگ پر آپ لوگوں سے شیئر کر لیا، دوبارہ شیئر کر لیتا ہوں لطیفہ کچھ یوں تھا ۔
"ایک ملک میں انقلاب آیا۔اس ملک کا ایک باشندہ جو انقلاب سے قبل بیرونی ملک کے دورے پر تھا واپس آیا تو ائرپورٹ سے نکل کر اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا "کسی نزدیکی دکان پر ٹھہرجانا، مجھےسگریٹ خریدنا ہے"۔
"سگریٹ خریدنے کے لئے آپ کو چرچ جانا پڑے گا"۔ڈرائیور نے جواب دیا ۔
"کیا؟ چرچ تو وہ جگہ ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے "۔
"لوگ عبادت کے لئے یونیورسٹی جاتے ہیں"۔
"کیا؟ یونیورسٹی میں تو وہ لوگ نہیں ہوتے جو پڑھتے ہیں؟"۔
"نہیں پڑھنے والے تو جیل مہں ہوتے ہیں"۔
ڈرائیور نے کہا "جیل میں تو مجرم ہوتے ہیں"۔
"اوہ نہیں، وہ تو برسر اقتدار ہیں"۔
ہمیں نہیں معلوم تھا یہ لطیفہ کبھی حقیقت بھی بن سکتا ہے اس حقیقت سے واسطہ کہیں اور نہیں اپنے ملک میں ہی ہمارا پڑے گا۔ 
پہلی مرتبہ اس انقلاب کا علم اُس وقت ہوا جب بلوے کے کیس میں مطلوب ملزم ایک صوبے کا گورنر بن گیا، دوسری مرتبہ اُس وقت ہوا جب ایک امر کی جگہ پارلیمنٹ میں نیا صدر منتخب کیا گیا۔ اب ایک بار پھر احساس ہونے لگا ہے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں یہ انقلاب آنا تھا۔ تازہ خبر پنجاب کی رکن اسمبلی محترمہ (کیا محترمہ کہنا بنتا ہے؟) شمیلہ انجم رانا، جو مسلم لیگ نون کی کی رُکن ہیں، کی کریڈٹ کارڈ چوری کی کہانی ہے۔ انہوں نے اپنی ہیلتھ کلب کی ساتھی زائرہ ملک کے دو کریڈٹ کارڈ چوری کرنے کے بعد فورا ہی قریب کی دوکان سے اسی ہزار مالیت کے زیورات اور تین مردانہ جوڑے خریدے، اس تمام کاروائی خریداری کی فلم بن چکی ہے۔

محترمہ اسمبلی میں مذہبی امور اور اوقاف کمیٹی کی ممبر ہیں، IDPs کی کوآرڈینیٹنگ کمیٹی کی ممبر ہیں (خدا خیر کرے)، پارٹی کی و دیگر تقریبات میں نعتیں پرھنے کی شوقین ہیں مگر اب معلوم ہوا کہ ایک چور بھی ہیں۔
ہمارے ملک میں اب شاید چور و ڈاکو ہی منتخب نمائندے ہوں گے تبھی گزشتہ دنوں ہمارے موبائل پر کچھ ایسا ایس ایم ایس آیا۔
"گیارہ سال جیل میں رہنے والا ہمارا صدر، چھ سال جیل میں رہنے والا ہمارا وزیر اعظم، دس سال جلاوطن رہنے والا خادم پنجاب، انیس سالوں سے بھتہ پر لندن میں عیاشی کرنے والا ہمارا بے تاج بادشاہ۔۔۔۔۔ ارے دو چار سال آپ بھی جیل کی ہوا کھا آئیں ایمان سے زندگی بن جائے گی"
کہتے ہیں حکمران عوام کے اعمال کا آئینہ ہوتے ہیں، اگر یہ سچ ہے تو خدا رحم کرے، عوامی اعمال سے کہیں زرد انقلاب تو نہیں آ گیا؟

رن مرید

July 2nd, 2009 / Categorized under: Uncategorized

Hello world!

July 1st, 2009 / Categorized under: Uncategorized

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start blogging!

پاکستان بننے کے نقصانات

June 29th, 2009 / Categorized under: Uncategorized

جب ہم ایل ایل بی سال دوئم کے طالب علم تھے تب کی بات ہے ہمارے کالج کے پرنسپل جناب خورشید ہاشمی جو ہمیں بین الاقوامی قانون پڑھاتے تھے نے ایک دن ایک قصہ یا واقعہ کہہ لیں ہم طالب علموں سے شیئر کیا، محترم نے بتایا کہ ایک بار وہ ایک یورپی یونیورسٹی {معذرت مجھے نام بھول گیا} میں لیکچر دینے گئے تو انہوں نے دوران لیکچر سوال کیا کہ یہاں موجود کتنے طالب علموں کا تعلق پاکستان سے ہے؟ تو قریب بارہ سے تیرہ نوجوانوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے۔ اس کے بعد اُن کا اگلا سوال یہ تھا کہ کتنے طالب علم بھارت سے تعلق رکھتے ہیں تو بھی قریب اتنے ہی ہاٹھ جواب میں اٹھے ، جب اُن میں مسلمان طلباء کی تعداد دریافت کی تو وہ صرف ایک تھی۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا۔ ہماری کامیابیوں کی تمام وجوہات کا ہر سرا اس کے وجود کے مرہون منت ہے خواں وہ کامیابیاں اس ملک سے باہر ہی کیوں نہ ملی ہوں۔مگر ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے سربراہ فرماتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم نے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر صرف نقصان ہی نقصان ہوا ہے۔ جی نہیں میں آج سے پانچ سال پہلے والے بھارت میں جناب کی تقریر کی بات نہیں کررہا کل رات کے تازہ "____" کا کہہ رہا ہوں۔ ویڈیو ذیل میں ہے یوں تو تمام ویڈیو دیکھ لیں مگر ساتویں منٹ سے جو بات شروع ہوتی ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔

Altaf interview

اس کے جواب میں ایک بہت لمبی حقائق پر مبنی پوسٹ لکھ پر جناب کے دعوی کو غلط ثابت کرنا نہایت آسان ہے۔ مگر جو نہیں سمجھنا چاہتے اُن کے لئے صرف خاموشی۔ ویسے جناب کی اپنی سیاست بھی اس ہی تقسیم کا نتیجہ ہے۔

قائد کی تصویر اور جمہوریت کے خلاف سازش

June 29th, 2009 / Categorized under: Uncategorized

اگر آپ کراچی کے رہائشی ہیں تو گزشتہ ماہ کے آغاز میں یقین آپ نے شہر کی گلیوں و سڑکوں پر ایسے بینر دیکھے ہوں گے جن پر درج تھا "خود بھی جیو اور جینے دو، خدارا ملک میں بی بی کی قربانی کی بناء پر آنے والی جمہوریت کے خلاف سازشیں بند کر دو" منجانب پیپلز پارٹی فلاں فلاں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں اس کا مطلب کیا تھا؟ اگر نہیں تو آپ بھی میرے بھائی /بہن ہیں۔ اس بینر کو دیکھ کر یہ مھسوس ہوتا تھا جیسے منت سماجت ہو رہی ہو، ویسے تو ترلوں میں بڑی جان ہوتی ہے، سنا ہے دو طرح کے لوگ کرتے ہیں اول جو کمزور ہو دوئم جو جھوٹے ہوں، حکومت وقت کمزور ہو تی ہے کیا؟

یار لوگوں کا دعوی ہے کہ پاکستان اب قائد کا پاکستان نہیں رہا، البتہ وہ خود کنفیوز ہیں کہ آیا اب یہ پیپلزستان ہے یا جیالستان؟ یہ الجھن بھی ہے کہ یہ بھٹوستان ہے یا درحقیقت زردارستان؟ چند ایک احباب اپنے کافی وزنی دلائل سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ یہ اب امریکستان بن چکا ہے، کم از کم حکمرانوں کے لئے۔

موجودہ حکومت ایک جمہوری حکومت ہے، جس نے ایک "آمر" کی چھٹی کر وائی، کہ "آ" "مر"۔

اس جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں جاری ہیں۔ اب یار لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ ایوان صدر سے محمد علی جناح جنہیں ایک قوم ہوا کرتی تحی پاکستانی وہ قائد اعظم بھی مانتی تھی کی تصویر ہٹا دی گئی ہے۔ سازشیوں نے ثبوت کے طور پر چند ایک مثالیں بھی دی خاص کر کے ذیل کو تصویر کو پیش کرتے ہیں

June 25 – A group photograph of President Asif Ali Zardari with T-20 World Cup winning Pakistani Cricket Team at Aiwan-e-Sadr.

اب کوئی ثبوت دے کہ یہ اصلی ہے، خواں یہ سچ ہی کیوں نہ ہو کہ 26 جون کو سرکاری طور پر جاری کی گئی تھی، یہ اس کے اصلی ہونے کی کوئی وجہ تو نہیں ناں؟ اس سازش میں دراصل انگریزی اخبار "دی نیوز" کا ہاتھ ہے وہاں سے جیو و جنگ نے اسے اُٹھایا۔ بقول جیو کے

قانون کیا ہے بس روایت ہے، بقول فرخ نسیم کے

ممکن ہے کہ آپ کو ایسی پریس ریلیز ملتی" یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے، اس میں "_____" کا ہاتھ ہے، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم کسی کو ایسی سازش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گے، اب ایسے سازشی عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گے۔ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے گا، قوم جانتی ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں عالمی جیمپین بننا بھی دراصل بی بی کی سالگرہ کے دن کے مرہون منت ہے، قوم ان سازشوں کا شکار نہیں ہو گی"۔ مگر سادہ سی تردید ہوئی ہے وہ بھی صرف وزیراعظم ہاوس کی، ایوان صدر کی نہیں۔

ایوان صدر کی کیا بات ہے۔ ویسے بھی قائد کا پاکستان نہیں رہا تو قائد کی تصویر کیوں؟ بھٹو نے اپنی ایک ساتھی سے کہا تھا دیکھ پورے کراچی کی جو زمین اچھی لگے بے شک اُس کا سودا کر لینا مگر یہ جو "بابے" کو زمین کا ٹکڑا دیا ہے اس پر اپنی نظر بند نہیں ڈلنا ورنہ قوم تجھے نہیں چھوڑے گی اور بھٹو کا داماد جانتا ہے اب قوم کچھ نہیں کہتی لہذا قائد کی تصویر کو "ٹاٹا"۔

گوگل ٹرانسٹریشن

June 27th, 2009 / Categorized under: Uncategorized

گوگل ٹرانسٹریشن ایک نہایت عمدہ فیچر ہے مجھے ابھی عالمی بلاگ کی ایک پوسٹ سے یہ علم ہوا کہ یہ اردو زبان کے لئے بھی ہے۔ یعنی آپ رومن اردو میں تحریر کریں اور یہ اُسے عربی رسم خط میں بدل کر یونیکورڈ اردو میں بدل دے گا؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ بلاگر کے لئے کب آئے گا؟


RSSSubscribe to the feed now.

About PakBlogging.com

PakBlogging.com is a free spirited attempt to build a network of different types of Pakistan - focused blogs. See the Categories below for what we have managed to do so far.
Submit you Pakistani Blog