16/09/2011 [Flickr]
Shoiab Safdar posted a photo:
Shoiab Safdar posted a photo:
Shoiab Safdar posted a photo:
Shoiab Safdar posted a photo:
اجی کچھ سنا تم نے؟
اجی کچھ سنا تم نے؟
ب ہم کیا کریں؟ ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ دنوں ہم نے اپنے پڑوسی سی لیا ہوا انٹرنیٹ کا کنکشن اُتارا اور پی ٹی سی ایل والوں کا ڈی ایس ایل لگوانے کا آرڈر دے دیا! جس دن پی ٹی سی ایل والا اپنی ڈیوائس دے کر گیا اُس دن (جمعرات 10 اگست 2011) کو ہمارے علاقے میں بارش ہو گئی! جس سے فون ڈیڈ ہو گیا۔ یوں انٹرنیٹ کیا آن ہوتا ہمارے گھر والے فون کی سہولت سے بھی محروم ہو گئے۔ اُس پر ظلم یہ کہ موبائل فون پر کال کرکے جو رشتہ دار گھر کے نمبر نہ اُٹھانے کی شکایت کرتا یہاں سے جواب آتا “جب سے شعیب نے انٹرنیٹ لگایا ہے فون ڈیڈ ہو گیا ہے” یوں اصل قصور وار ہم ٹھہرتے!
ہم نے فون کے ڈیڈ ہونے کے اگلے دن ہی اپنی شکایت درج کروا دی مگر مجال ہے محکمہ کی کان پر جوں بھی رینگی ہو ہاں ہمیں فون کر کے ہر بار یہ ضرور پوچھتے کہ جی نیٹ لگ گیا ہے یا نہیں پی ٹی سی ایل والے! جس پر ہم انہیں اپنے فون کے خراب ہونے کا رونا روتے اور الگ سے بھی اپنی شکایت 1218 پر درج کرواتے یہ یوں کہہ لیں کہ پہلے سے موجود زخم (شکایت) ہو ہرا کرتے مگر کون سنے ہماری آہ و زاری؟ بس ایک جواب ملتا کہ جی آپ کی شکایت ہم نے آپ کی متعلقہ ایکسچنج کو کر دی ہے۔ بس!
آخر منگل کی رات بتاریخ 16 اگست ہم نے آخری بار 1218 پر کال کی اپنی شکایت میں ایک جھوٹ کا اضافہ کیا کہ “آج لائین مین آیا تھا فون ٹھیک کرنے کے 500 روپے مانگ رہا تھا جب ہم نے نہیں دیئے تو وہ وہ فون ٹھیک کیئے بغیر واپس چلا گیا” فون کال 10 بجے رات کو کی اوربدھ کی صبح بتاریخ 17 اگست گیارہ بجے لائن مین نے آ کر ایک طرف تو پہلے فون ٹھیک کیا دوسری طرف کہا جی کس نے آپ سے پیسے مانگے تھے گھر والوں نے تو ایسی کسی شکایت سے انکار کیا کہ ہم نے نہیں کی مگر 12:30 بجے پی ٹی سی ایل والوں کی میرے موبائل پر کال آئی جناب فون ٹھیک ہو گیا ناں آپ کا؟ اور اب کے تو پیسے نہیں مارنگے ناں نیر کیا یہ ہی تھا جو آج آیا جس نے پیسے مانگے تھے!! آپ کو معلوم ہو گا ہمارا جواب کیا ہو گا!!
مگر اب دل پر ایک بوجھ سا ہے کہ ہم نے یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس کا کیا حل ہے کہ یہ بوجھ ہٹ جائے؟؟ اس موئے فون کو دیکھنے کو بھی دن نہیں کر رہا!! دوئم ذہن میں یہ پریشانی کہ کیا معاشرے میں اب سچ سے ذیادہ جھوٹ کی سنی جاتی ہے؟ ایسا کیوں؟
ارے میاں یہ کس کی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہو؟
“یار میری اپنی ہے ابھی گزشتہ ہفتہ لی ہے تو بھی ناں۔۔۔”
اوہ اچھا مبارک مبارک!! مٹھائی کب کھلا رہا ہے۔
“مٹھائی رہنے دے!! ایسی کی شوگر ہو جائے گی تجھے”
چل کھانا کھلا دینا اب تیرے سے کیا ضد کرنی!!! سڑکوں کی یہ مچھلی لی ہء مچھلی ہی کھلا دینا!
“بہت اچھے بھائی!! لگتا ہء جتنی کی موٹر سائیکل لی ہء اتنی کی تو دعوتیں پڑ جائیں گی!!”
یہ سواری خطرناک ہے ویسے، وہ الگ بات ہے یہ اس قدر ہو گئی ہے کہ اب تو اپنی حکومت نے pedestrian bridge پر بھی تم جیسے موٹر سائیکل والوں کے لئے راستہ بنانا شروع کر دیا ہے”
“ابے کیا کہہ رہا ہے؟ کہان بنایا ہے راستہ؟”
یار وہ شاہرہ فیصل پر نرسری اسٹاپ کے پاس تو پیدل چلنے والوں کے لئے سڑک پار کرنے کے لئے جو پل بنایا ہے! اس کے علاوہ نا تھا کے پرانے پُل پر بھی تم لوگوں کے لئے کافی پہلے سے ramp ہیں
“اللہ!! میں اپنا سر دیوار سے مارو یا تیرے سر پر پتھر دے مارو؟”
کیوں؟ کیوں؟
“ یہ حال ہے تم جیسے پڑھے لکھے لوگوں گا تو باقیوں کا کیا حال ہو گا؟ ابے لعنتی وہ موٹر سائیکلیسٹ کے لئے نہیں بلکہ wheelchair والون کے لئے ہے!”
اوہ! اچھا!
“تمہاری حکومتوں کا بھی یہ ہی حال ہے انہیں علم ہی نہیں ہوتا! کہ قانون بنا کر اُس پر عمل کیسے کروانا ہے شہر میں 120 کے قرین pedestrian پل ہیں مگر مجال ہے دو یا تین کہ علاوہ کسی میں معذور افراد ہے لئے سہولت ہو یہ ہی حال شہر میں تعمیر ہونے والی عمارتوں و تفریح مقامات کے لئے ہے”
اچھا اچھا ٹھیک ہے، سمجھ آ گئی ہے
ارے میاں یہ کس کی موٹر سائیکل پر بیٹھے ہو؟
“یار میری اپنی ہے ابھی گزشتہ ہفتہ لی ہے تو بھی ناں۔۔۔”
اوہ اچھا مبارک مبارک!! مٹھائی کب کھلا رہا ہے۔
“مٹھائی رہنے دے!! ایسی کی شوگر ہو جائے گی تجھے”
چل کھانا کھلا دینا اب تیرے سے کیا ضد کرنی!!! سڑکوں کی یہ مچھلی لی ہء مچھلی ہی کھلا دینا!
“بہت اچھے بھائی!! لگتا ہء جتنی کی موٹر سائیکل لی ہء اتنی کی تو دعوتیں پڑ جائیں گی!!”
یہ سواری خطرناک ہے ویسے، وہ الگ بات ہے یہ اس قدر ہو گئی ہے کہ اب تو اپنی حکومت نے pedestrian bridge پر بھی تم جیسے موٹر سائیکل والوں کے لئے راستہ بنانا شروع کر دیا ہے”
“ابے کیا کہہ رہا ہے؟ کہان بنایا ہے راستہ؟”
یار وہ شاہرہ فیصل پر نرسری اسٹاپ کے پاس تو پیدل چلنے والوں کے لئے سڑک پار کرنے کے لئے جو پل بنایا ہے! اس کے علاوہ نا تھا کے پرانے پُل پر بھی تم لوگوں کے لئے کافی پہلے سے ramp ہیں
“اللہ!! میں اپنا سر دیوار سے مارو یا تیرے سر پر پتھر دے مارو؟”
کیوں؟ کیوں؟
“ یہ حال ہے تم جیسے پڑھے لکھے لوگوں گا تو باقیوں کا کیا حال ہو گا؟ ابے لعنتی وہ موٹر سائیکلیسٹ کے لئے نہیں بلکہ wheelchair والون کے لئے ہے!”
اوہ! اچھا!
“تمہاری حکومتوں کا بھی یہ ہی حال ہے انہیں علم ہی نہیں ہوتا! کہ قانون بنا کر اُس پر عمل کیسے کروانا ہے شہر میں 120 کے قرین pedestrian پل ہیں مگر مجال ہے دو یا تین کہ علاوہ کسی میں معذور افراد ہے لئے سہولت ہو یہ ہی حال شہر میں تعمیر ہونے والی عمارتوں و تفریح مقامات کے لئے ہے”
اچھا اچھا ٹھیک ہے، سمجھ آ گئی ہے